پیش لفظ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کی ڈاک سے لاہور کا ماہنامہ آئین (فروری ۱۹۹۱) ملا۔ یہ جماعت اسلامی پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ۲۶ جنوری کو جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ اس میں خلیج کے مسئلے سے متعلق ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکہ خلیج کی یہ جنگ اپنے سامراجی مقاصد اور سیاسی عزائم کے لیے کر رہا ہے۔ اس کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اور یہ کہ "یہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور امن پسند انسانوں کے دل کی پکڑ ہے۔ اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور عراق دونوں کو ضد اور ہٹ دھرمی کی روش ترک کرکے امن کی اس اپیل پر لبیک کہنا چاہیے“۔ جماعت اسلامی کی یہ اپیل میرے نزدیک کھوکھلے الفاظ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ کیوں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ ظالمانہ اقدام اپنے ذاتی انٹرسٹ کے تحت ہوا ہے، اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ ہو وہاں کوئی بھی اپنی ضد کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ خود مذکورہ اپیل کرنے والے لوگ بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال خود پاکستان کا واقعہ ہے۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے مسٹر بھٹو پر مقدمہ چلا کر عدالت سے پھانسی کا فیصلہ حاصل کیا ۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اور جماعت اسلامی نے پوری طرح اس معاملے میں جنرل ضیاء الحق کی تائید کی۔ جب مسٹر بھٹو کی پھانسی کا اعلان ہوا تو تمام دنیا کے ممالک (بشمول مسلم ممالک) نے اپیل کی کہ بھٹو کو پھانسی نہ دی جائے۔ مگر جماعت اسلامی اور جنرل ضیاء الحق نے اس عمومی اپیل کی پرواز کی اور بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بھٹو کا زندہ رہنا ان کی اپنی سیاسی موت کے ہم معنی ہوگا۔ آج تمام لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں ان کا ذاتی انٹرسٹ ہو وہاں وہ کسی کی بات نہیں سنتے۔ ایسے لوگ دوسروں کو کس طرح نصیحت کر سکتے ہیں کہ تم اپنے انٹرسٹ کو نظر انداز کر کے دوسروں کی بات سنو اور اپنے اقدام کو واپس لے لو۔ لوگوں کے پاس دوسروں کے لیے اصول ہے اور اپنے لیے مفاد۔ اس معاملے میں لوگوں کا حال وہی ہے جو برطانوی ادیب ڈبلیو ایس لینڈر (۱۸۶۴ - ۱۷۷۵) نے کہا تھا کہ ہم اصول کی بات کرتے ہیں مگر ہم مفاد پر عمل کرتے ہیں : We talk on principle, but we act interest.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader