پیش لفظ
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۷ فروری ۱۹۹۱) کے موضوع الغلاف کا عنوان تھا کہ خاتمہ قریب آگیا (النھایة تقترب) اسی طرح المجلة (۲۷ فروری) کی کور اسٹوری کا عنوان ہے: معرکہ تحریر الكويت: الفصل الاخیر ۔ ٹائم جس پر ۲۵ فروری کی تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ وہ حسب قاعدہ پیشگی طور پر مجھے آج ملا۔ اس کی کور اسٹوری خلیج کی جنگ ہے اور اس کا عنوان بھی یہی قائم کیا گیا ہے کہ خاتمہ کا آغاز : Beginning of the end اتحادی طاقتوں کی رات دن کی مسلسل بمباری نے عراق کی دو تہائی فوجی طاقت برباد کر دی ۔ عراق کے شہر اور اس کے بیشتر اہم مقامات کھنڈر ہو گئے ۔ صدام حسین جو آخری فتح سے پہلے نہ رکنے کی باتیں کرتے تھے، وہ اب جنگ بندی کی پیش کش کر رہے ہیں ۔ ہولناک جنگ کے یک طرفہ خاتمہ کا آغاز شروع ہو چکا ہے ۔ ٹائم کے مذکورہ شمارہ میں عراق کی تباہی کی دردناک تصویریں ہیں ۔ ایک تصویر میں ایک عراقی عورت اپنے تباہ شدہ مکان کے طلیہ پر سر پکڑے ہوئے بیٹھی ہے ۔ ایک تصویر میں مردہ عراقیوں کی لاشیں ٹرکوں میں لاد کر لے جائی جا رہی ہیں ۔ ایک تصویر میں ایک وسیع کھنڈر کے اوپر بیٹھی ہوئی دو عورتیں رو رہی ہیں ۔ ایک اور بڑے کھنڈر کے اوپر ایک عراقی مایوسی اور نامرادی کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے ۔ کسی تصویر میں پل ٹوٹے ہوئے ہیں کسی میں بڑی بڑی بلڈنگیں منہدم صورت میں نظر آ رہی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق کی یہ تباہی ۱۲۵۸ء میں تاتاریوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہی سے ہزاروں گنا زیادہ سخت ہے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کو ہندو فرقہ پرست بابری مسجد (ایودھیا) کی چہار دیواری کو توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور اس کے گنبدوں پر بھگوا جھنڈ الہرادیا۔ ملک میں وسیع پیمانہ پر فسادات پھوٹ پڑے ۔ اسی کے ساتھ خلیج میں دشمن اسلام امریکہ کی فوجیں بہت بڑی تعداد میں جمع ہوگئیں ۔ اب سارے ملک میں "قنوت نازلہ" پڑھی جانے لگی ۔ مسلمان ہر طرف اللهم دتریاہم کی بددعا کرنے لگے اور تمام اکابر واصاغر نے اس پر آمین کہنا شروع کر دیا ۔ یہ بددعا تمام مسجدوں اور تمام اجتماعات میں جاری تھی ۔ مگر ۱ جنوری ۱۹۹۱ کو جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو " تدمیر دیار " کا عمل کافروں کے بجائے خود مسلمانوں کے اوپر ہو رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب وہ آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان احتجاج غیر کا طریقہ چھوڑ دیں اور احتساب خویش کا طریقہ اختیار کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader