Urdu book · خلیج ڈائری

خلیج ڈائری

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

روشن امکانات آئرلینڈ کے ایک شہر (Athlone) سے ایک ماہانہ انگریزی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام مسلم ویوز (Muslim Views) ہے۔ اس کے شمارہ مارچ 1991ء میں ایک نومسلم مسٹر شفیق مارٹن (Shafiq Morton) کا مضمون خلیج کی جنگ کے بارہ میں چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے امریکی صدر جارج بش کی حکومت کے اس نظریہ کا ذکر کیا ہے کہ خلیج میں امریکہ کی کامیابی نے اس کے لئے علاقہ میں مواقع کی ایک کھڑکی کھول دی ہے : The Bush administration believes its success in the Gulf has مسٹر شفیق مارٹن کو اس سے اتفاق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خلیج کی جنگ کے بعد مواقع کی جو کھڑکی کھلی ہے، اسے مسلمانوں کو استعمال کرنا چاہئے نہ کہ امریکہ کو : Muslims not the US must use the window. خلیج کی جنگ بلاشبہ ایک درد ناک المیہ تھی۔ مگر اس دنیا میں ” زوجین “ کا تخلیقی اصول کارفرما ہے ( الذاریات (۴۹)۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ اس کا ضد بھی ضرور موجود رہتا ہے۔ یہ اصول اتنا عام ہے کہ اس دنیا کی کوئی بھی چیز اس سے مستثنیٰ نہیں، خواہ وہ حیوانات کا معاملہ ہو یا جمادات اور نباتات کا۔ حتی کہ معانی اور حقائق بھی اس دنیا میں ہمیشہ جوڑے کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ عصر کا جوڑایسر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ یہاں ہمیشہ عصر (مشکل) کے ساتھ یسر (آسانی) بھی لازماً موجود رہے۔ اس دنیا میں کسی کے لئے جب ایک ڈس ایڈوانٹیج پیدا ہو تو وہ ایک ایڈوانٹیج بھی اپنے ساتھ ضرور لے آئے۔ چنانچہ یہاں بھی منفی پہلو کے ساتھ مثبت پہلو موجود ہے۔ تعمیری پہلو خلیج کی جنگ شروع ہوئی تو ۱۸ جنوری 1991ء کو عراق نے اسرائیل کے اوپر ایک اسکڈ (Scud) مارا جس کا نام صدام حسین نے حجارة السجیل رکھا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے تقریباً ڈیڑھ مہینہ کے اندر ۳۵ اسکڈ اسرائیل کے مختلف نشانوں پر پھینکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page