Urdu book · خلیج ڈائری

تعمیری پہلو

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صدام حسین کی نہایت گہری تدبیر تھی ۔ صدام حسین کا خیال تھا کہ اسرائیل کی زمین پر عراقی اسکڈ گرتے ہی اسرائیل اپنے معروف مزاج کے مطابق پھر اٹھے گا اور فوراً عراق کے اوپر جوابی حملہ کرے گا۔ اس طرح یہ جنگ عراق - امریکہ جنگ نہ رہے گی بلکہ عرب - اسرائیل جنگ بن جائے گی اور پھر تمام عرب اور تمام دنیا کے مسلمان عراق کے ساتھی بن جائیں گے۔ مگر جو شخص اپنے کو ہوشیار اور دشمن کو بے وقوف سمجھے ، وہ خود سب سے بڑا بیوقوف ہے۔ چنانچہ اسرائیل نے امریکہ کے مشورہ پر اس معاملے میں جوابی حملہ کے بجائے جوابی ہوشیاری کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ طریقہ ضبط (restraint) تھا۔ وہ بار بار عراقی اسکڈ کا شکار ہو تا رہا۔ مگر اس نے نہ صرف یہ کہ کوئی جوابی کارروائی نہیں کی بلکہ عراقی حملہ اور اس کے نقصانات کے اعلان و اظہار سے بھی مکمل پر ہیز کیا۔ ضبط کی اس پالیسی کا نتیجہ اسرائیل کو نہایت شاندار ملا ۔ خلیج کی جنگ عرب - اسرائیل جنگ نہ بن سکی۔ نقصان کی تلافی کے نام پر عراق کے ہراسڈ پر اسرائیل کا ایک بلین ڈالر کا بل بنتا رہا جس کو امریکہ نے بلا تاخیر اسے ادا کر دیا۔ مزید یہ کہ امریکہ کی کامیاب فوجی کارروائی نے فلسطینی تحریک کو اس انجام تک پہنچا دیا جس کا اندیشہ ایک مبصر نے ان لفظوں میں ظاہر کیا تھا : It seems that the Palestinian question will be one of the prin- cipal casualties of Desert Storm. عراق کی طرف سے اسکڈ میزائل کے مسلسل حملے اسرائیل کے لئے انتہائی اشتعال انگیز تھے ۔ مگر اسرائیل نے کسی بھی قسم کی کوئی جوابی کارروائی نہیں کی ۔ اس نے اس معاملہ کو چھپایا یا اور آخری حد تک ضبط و تحمل سے کام لیا۔ اسی کا نام حقیقت پسندانہ سیاست ہے ۔ یہ حقیقت پسندانہ سیاست موجودہ مسلمانوں میں معدومیت کے درجہ میں ختم ہوگئی تھی۔ خلیج کی جنگ میں ایک دشمن کے ذریعہ اس طریقی عمل کا کامیاب مظاہرہ کرکے مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ اس طرح کے معاملات میں نتیجہ خیز عمل کا طریقہ کیا ہے۔ اور یہ کہ مسلمانوں کو اپنی سیاست کس ڈھنگ پر چلانا چاہئے۔ خلیج کا یہ واقعہ اس معاملہ میں ایک چشم کشا واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ یہ جنگ مسلمانوں کے لئے مہمیز ثابت ہوئی ہے اور انھوں نے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page