علمی تائید کی ضرورت
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
علمی تائید کی ضرورت اوپر کی تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ میں خارجی تفسیر کی مقبولیت کیوں ہے ۔ اور اس کے مقابلہ میں داخلی تفسیر کو ان میں مقبول عام کیوں حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت کو لیجئے ۔ وہ ایک ایسی جماعت ہے جس کو اپنی نوعیت کے اعتبار سے داخلی تفسیر کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریک کہا جا سکتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس کا کام زیادہ تر عوامی طبقہ کے لوگوں میں محدود ہے۔ تقریباً سوسال کی محنت کے باوجود ابھی تک وہ خواص کے طبقہ میں نفوذ حاصل نہ کر سکا ۔ طبقہ خواص کا کوئی آدمی اگر تبلیغ کے قریب آتا ہے تو وہ بھی برکت کے لئے آتا ہے نہ کہ حقیقتاً دینی جذبہ کی بنا پر۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ” تبلیغ “ یا داخلی نوعیت کے کام کے حق میں علمی اور فکری فضا موجود نہیں۔ اور جس مشن کی پشت پر علمی افکار کا وزن شامل نہ ہو، وہ خواص کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتا۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی نے تبلیغی جماعت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” تبلیغ والوں نے پہلے میواتیوں کو مسلمان بنایا ، اب وہ تمام مسلمانوں کو میواتی بنا رہے ہیں ۔“ یہ تبصرہ صحیح نہیں۔ تاہم اس تبصرہ کا پس منظر یہی مذکورہ صورتِ حال ہے۔ وہ قائل کی اپنی ذہنی حالت کو بتا رہا ہے نہ کہ تبلیغ کی واقعی حقیقت کو۔ ” تبلیغ “ یا بالفاظِ دیگر ، داخلی تفکیر والے کام کے حق میں آج علمی تصدیقات کا وزن شامل نہیں ۔ خشیتِ اغیار کے موضوع پر بے شمار لٹریچر دھرے پان میں چھپا ہوا موجود ہے۔ مگر خشیتِ خدا کے موضوع پر کوئی طاقتور لٹریچر سرے سے دورِ پریس میں تیار ہی نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ماحول میں خارجی تفکیر پر مبنی کاموں کو فوراً اہمیت حاصل ہو جاتی ہے، جب کہ داخلی تفکیر پر مبنی کسی کام کو اٹھایا یا جائے تو لوگ اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے۔ اپنے موجودہ ذہنی سانچہ کی بنا پر انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ تمام مسلمانوں کو ” میواتی “ بنایا جا رہا ہو۔ یہ ایک نہایت سنگین خلا ہے جس کو پر کرنا انتہائی طور پر ضروری ہے۔ آج ضرورت ہے کہ داخلی تفکیر کے حق میں مضبوط علمی فضا تیار کی جائے۔ داخلی اندازِ کار کو ایک باوزن کام کی حیثیت سے دنیا کے سامنے لایا جائے۔ پریس کی طاقت ، جس کو اب تک صرف خارجی تفکیر کے حق میں استعمال کیا گیا ہے، اس کو مزید شدت کے ساتھ داخلی تفکیر کے حق میں استعمال کیا جائے ۔ جب تک یہ کام نہ ہوگا ، قوم کا ذہین طبقہ (انٹلکچول کلاس) دین کی طرف مائل نہ ہوگا ۔ جب کہ یہی ذہین طبقہ ہے جو سوسائٹی کا رہنما ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader