Urdu book · خلیج ڈائری

حفاظت کی صورتیں

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

کی اس اہم تعلیم کو علمی اور فکری سطح پر مدلل کرکے لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔ جہاد و قتال کے حق میں علمی فضا موجود ہے ، مگر صبر و اعراض کے حق میں علمی فضا سرے سے موجود ہی نہیں۔ عصری افکار کی مساعدت اوپر جن دو قسم کی اسلامی تحریکوں کا ذکر کیا گیا ، ان کو متمیز کرنے کے لئے ان میں سے ایک کو انقلابی اسلامی تحریک اور دوسرے کو ربانی اسلامی تحریک کہا جاسکتا ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ جو لوگ انقلابی اسلام کا نعرہ لے کر اٹھتے ہیں ، ان کو بہت جلد تعلیم یافتہ طبقہ میں اپنے ہمنوا افراد مل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو شخص ربانی اسلام کا پیغام لے کر اٹھے ، وہ تعلیم یافتہ طبقہ میں بہت کم افراد کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس فرق کا سبب خود انقلابی اسلام کے علمداروں کی ذاتی لیاقت نہیں ہے۔ اس کا سبب دراصل زمانہ کی مساعدت ہے۔ ان کا پیغام اس ذہنی ڈھانچہ کے مطابق ہے جو پہلے سے لوگوں کے اندر پایا جا رہا ہے۔ چنانچہ انقلابی اصطلاحوں میں بولنے والوں کی بات فوراً ان کی سمجھ میں آجاتی ہے اور وہ اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ڈیموکریسی اور سوشلزم وغیرہ کے نام سے جو تحریکیں اٹھیں ، ان سب کا فکر مبنی بر نظام (SYSTEM BASED) فکر تھا۔ ان تحریکوں کی پشت پر دورِ جدید کی بڑی بڑی حکومتیں اور انتہائی بڑے بڑے ادارے تھے۔ انھوں نے اعلیٰ ترین ذرائع کو استعمال کرکے عالمی سطح پر لوگوں کے ذہنوں کی تشکیل کی۔ ساری دنیا کے تعلیم یافتہ لوگ اس انداز پر سوچنے لگے کہ انسانیت کی تعمیر کے لئے اصل کام اجتماعی ڈھانچہ میں تبدیلی لانا ہے۔ اس طرح نظامی طرزِ فکر وقت کا غالب طرزِ فکر بن گیا۔ اب ایک شخص جب اسلام کی دعوت کو سیاسی اور انقلابی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے تو ایسی دعوت لوگوں کے لئے ایک مانوس دعوت بن جاتی ہے ۔ ذہنی رجحان کے اعتبار سے ، وہ وقت کے شاکلہ کے عین مطابق ہوتی ہے۔ ایسی آواز فوراً لوگوں کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ وہ بڑھ کر اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس ربانی اسلام کی بات آج کے علمی ماحول میں بالکل اجنبی ہے۔ اس کے حق میں نہ عالمی ذہنی فضا موجود ہے اور نہ مسلم مفکرین نے اس کی پشت پر علمی دلائل کا زور جمع کیا ہے۔ اس بنا پر آج کے انسان کے لئے ربانی اسلام کا پیغام ایک اجنبی پیغام بن جاتا ہے۔ ان میں بہت کم افراد ایسے ملتے ہیں جو ربانی اسلام کی معنویت کو سمجھیں اور دل کی گہرائی کے ساتھ اس کو قبول کرلیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page