Urdu book · خاندانی زندگی

ایک حدیث

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث ازدواجی رشتے کے بارے میں ایک جامع نصیحت حدیثِ رسول میں آئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یفرک مؤمن مؤمنةً، إن کرہ منھا خُلقاً، رضی منھا آخر (صحیح مسلم، كتاب الرضاع، باب الوصیة بالنساء) یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے ۔ اگر عورت کی ایک خصلت اُس کو ناپسند ہو تو اُس کے اندر کوئی دوسری خصلت موجود ہوگی جو اس کو پسند آئے۔ اصل یہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کے اندر ساری اچھی صفات پائی نہیں جاتیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی کے اندر ایک صفت موجود ہوتی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت موجود نہیں ہوتی۔ مثلاً عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک عورت یا مرد اگر ظاہری دل کشی کے اعتبار سے زیادہ ہوں تو وہ داخلی خصوصیات کے اعتبار سے کم ہوں گے۔ اور اگر کسی میں داخلی خصوصیات زیادہ ہوں تو اس کے اندر خارجی صفات کم پائی جائیں گی۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی کے منفی پہلو کو زیادہ دیکھتا ہے، اُس کے مثبت پہلو اکثر اس کی نگاہ سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک تباہ گن مزاج ہے۔ اِسی مزاج کی وجہ سے رشتوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر ایسا کیا جائے کہ مثبت پہلو پر دھیان دیا جائے اور منفی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو تعلقات خود بخود خوش گوار ہو جائیں گے ۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہر مرد کو اُس کی بیوی بہترین رفیق حیات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page