خاندانی زندگی
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
دکھائی دے گی اور ہر عورت کو اُس کا شوہر بہترین رفیق زندگی نظر آئے گا۔ خدا نے کسی عورت یا مرد کو کم تر پیدا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اپنے آپ میں باعتبار تخلیق کامل ہوتے ہیں ۔ یہ ہمارے اپنے فہم کا قصور ہے کہ ہم کسی کو کم اور کسی کو زیادہ سمجھ لیتے ہیں۔ عورت اور مرد اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی شکر کی زندگی بن جائے، شکایت یا محرومی کا احساس ان کے اندر باقی نہ رہے اور پھر وہ زیادہ بہتر طور پر زندگی کی تعمیر کے قابل ہو جائیں۔ قوامیت یا باس ازم قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے کہ : الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 34) یعنی مرد عورتوں کے اوپر قُوَّام ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم ہیں۔ حاکم کا لفظ اپنے ساتھ مخصوص روایات رکھتا ہے۔ اس لفظ سے یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ ایک حاکم ہے اور دوسرا محکوم، مگر قُوَّام کا یہ مطلب نہیں۔ قُوَّام کا مطلب صرف انتظام کا رہے، نہ کہ حاکم یا دوسرے سے برتر۔ موجودہ زمانے میں باس اور باس ازم (bossism) کا تصور ایک معروف تصور ہے۔ اس کی مثال سے قوام کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ قوام کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد گھر کے اندر باس (boss) کی حیثیت رکھتا ہے، ٹھیک اُسی طرح جس طرح کسی ادارے یا کمپنی کا ایک باس ہوتا ہے۔ یہ باس کمپنی کے لیے ایک تنظیمی ضرورت ہوتا ہے، وہ کمپنی کا حاکم نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ باس ہمیشہ درست ہوتا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader