Urdu book · خاندانی زندگی

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

(boss is always right)۔ اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ باس دوسرے سے برتر ہے۔ یہ اصول صرف اس لیے ہے کہ کسی ادارے میں جب تک ایک شخص کو اتھارٹی نہ مانا جائے، ادارہ کامیابی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اسی طرح گھر بھی ایک ادارہ ہے۔ اس ادارے کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک تنظیمی اتھارٹی (management authority) ضروری ہے۔ قرآن میں اسی اعتبار سے مرد کو قوّام کہا گیا ہے۔ کسی گھر کا قوّام اُس کے مساوی ممبران کے درمیان ایک ناظم کا درجہ رکھتا ہے۔ اِس اصول کو نہ ماننا صرف اِس قیمت پر ہوگا کہ ہر گھر انارکی (anarchy) کا شکار ہوکر رہ جائے۔ باس ازم ایک ذمے داری ہے، وہ ایک کے اوپر دوسرے کی برتری کا ٹائٹل نہیں۔ اسی طرح قوامیت بھی ایک ذمے داری ہے، وہ ایک کے اوپر دوسرے کی برتری کے ہم معنی نہیں۔ یہ ایک انتظامی ضرورت کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی قسم کی فضیلت (superiority) کا معاملہ۔ عملی ضرورت اور نظریاتی شرف کے فرق کو اگر پوری طرح سمجھ لیا جائے تو قوام اور قوامیت کے معاملے کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ صنفی مساوات دہلی کے ایک سیمنار میں میری ملاقات ایک رٹائرڈ جج سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ـــ مولا نا صاحب، آپ جانتے ہیں کہ اسلام کا سب سے زیادہ کم زور پوائنٹ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اسلام صنفی مساوات (gender equality) کو نہیں مانتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page