انٹلیکچوئل پارٹنر
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف سے پیدا شدہ انسان ہے۔ اس کے بعد کا سارا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ فطرت، خام لوہا پیدا کرتی ہے۔ اس کے بعد اُس کو اسٹیل کی صورت میں کونورٹ کرنا یا اس کو مشین بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ خود سازی کے اِس فطری عمل میں سب سے زیادہ اہمیت ذہنی ترقی (intellectual development) کی ہوتی ہے۔ اپنی شخصیت بنانے کے سلسلے میں سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے ذہن کو ارتقا یافتہ ذہن بنائے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کر کے اپنے ذہن کی تکمیل کرے۔ اس عمل میں بنیادی طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے ــــ مطالعہ، مشاہدہ، اور دوسرے انسانوں سے فکری تبادلہ (intellectual exchange)۔ مطالعے کا سب سے بڑا ذریعہ کتابیں ہیں۔ اِسی طرح مشاہدے کا سب سے بڑا ذریعہ عالم فطرت ہے۔ افکار و خیال کے تبادلے کے سلسلے میں ضروری ہے کہ آدمی کے اندر دوسروں سے سیکھنے کا مزاج ہو۔ وہ ہر ایک کے ساتھ سیکھنے کے عمل (learning process) کو مسلسل جاری رکھے۔ سیکھنے کے عمل کے سلسلے میں ہر مرد کے لیے اس کی بیوی اور ہر بیوی کے لیے اس کا شوہر قریبی انٹیلکچول پارٹنر (intellectual partner) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ازدواجی زندگی اس اعتبار سے ایک عظیم موقع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ازدواجی زندگی کی صورت میں ہر عورت اور مرد اپنے لیے ایک انٹیلکچول پارٹنر پا لیتے ہیں جس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader