Urdu book · خاندانی زندگی

آرٹ آف فیلیر میچ منٹ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

بیٹی کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔ جلد ہی ان کی شادی ہونے والی ہے۔ آپ دعا کیجیے کہ ان کی شادی شدہ زندگی (married life) کامیاب ہو۔ میں نے ان کی بات سنی اور پھر میری زبان سے نکلا: Every marriage is doomed to failure, except for the one who knows the art of failure management. یعنی ہر شادی کے لیے مقدر ہے کہ وہ ناکام ہو، سوا اُس کے جو ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا آرٹ جانتا ہو۔ انھوں نے کہا کہ پھر ہم کو وہی آرٹ بتائیے۔ میں نے کہا کہ وہ آرٹ یہ ہے کہ آدمی شادی کو آئیڈیل کی نظر سے نہ دیکھے، بلکہ پریکٹیکل نظر سے دیکھے اور پھر جو شادی اس کے حصے میں آئی ہے اُسی کو ممکن سمجھ کر اس پر راضی ہوجائے۔ شادی کے بعد عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ساتھی کو آئیڈیل سے ناپتے ہیں۔ چونکہ آئیڈیل کا حصول ممکن نہیں، اس لیے اُن کا احساس یہ ہوتا ہے کہ انھیں رائٹ جیون ساتھی نہیں ملا۔ شادی کے دونوں فریق اسی احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شادی کے نام پر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا ہوتے ہیں، لیکن انھیں شادی یا خوشی کا کبھی تجربہ نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت وہی ہے جو دوسری عورت ہے۔ اسی طرح ہر مرد وہی ہے جو دوسرا مرد ہے۔ ظاہری صورتوں کے لحاظ سے خواہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوں، لیکن داخلی شخصیت کے اعتبار سے ہر ایک یکساں حیثیت کا مالک ہے۔ لوگ اگر اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page