Urdu book · خاندانی زندگی

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

بات کو جانیں کہ یہ ایک نفسیاتی نوعیت کا مسئلہ ہے، نہ کہ حقیقی نوعیت کا مسئلہ تو وہ فوراً اس کو نظر انداز کر دیں، جس طرح وہ وقتی ملاقاتوں میں ایسی چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اِس بے خبری کی بنا پر ہر عورت اور مرد کی زندگی ایک متضاد رویئے کا شکار رہتی ہے۔ وہ اپنے گھر کے اندر لڑتے جھگڑتے ہیں، لیکن یہی لوگ جب گھر کے باہر کی دنیا میں آتے ہیں تو ان کا رویہ لوگوں کے ساتھ بالکل معتدل ہو جاتا ہے۔ زوجین کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس متضاد رویئے سے بچائیں۔ اس کے بعد ان کی گھر کی زندگی بھی اُسی طرح معتدل بن جائے گی، جس طرح ان کی باہر کی زندگی معتدل بنی ہوئی ہے۔ زندگی کے اکثر مسائل صرف بے شعوری کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو باشعور بنائیے، اور پھر آپ خود بخود غیر ضروری مسائل سے بچ جائیں گے۔ عدم مداخلت کی پالیسی میں نے ایک تعلیم یافتہ شخص سے پوچھا کہ آپ کی ازدواجی زندگی کیسی ہے، خوش گوار یا ناخوش گوار۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری ازدواجی زندگی پوری طرح ایک خوش گوار زندگی ہے۔ میرے گھر میں معتدل ماحول رہتا ہے۔ ہم دونوں کے درمیان کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔ میں نے پوچھا کہ اس خوش گوار زندگی کے لیے آپ کا فارمولا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا فارمولا، ایک لفظ میں، عدم مداخلت (non-interference) ہے، یعنی ہم نے اپنے یہاں تقسیم کار کے اصول کو اپنا لیا ہے۔ نہ میں بیوی کے معاملے میں دخل دیتا ہوں اور نہ بیوی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page