عدم مداخلت کی پالیسی
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے معاملے میں دخل دیتی ہیں۔ میں نے کہا کہ ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنانے کے لیے یہ بلا شبہہ ایک بہترین اصول ہے۔ کیوں کہ خالق نے ہر عورت اور مرد کو الگ الگ مزاج کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔ ایسی حالت میں ازدواجی تعلق گویا دو ڈفرنٹ افراد کے درمیان تعلق کا نام ہے۔ یہ فرق چوں کہ خالق کا پیدا کیا ہوا ہے، اس لیے ہم اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم اس فرق کو بدلنے کی ناکام کوشش نہ کریں، بلکہ فرق کے ساتھ نباہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس اصول کو ایک لفظ میں، ”آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ (art of difference management) کہا جا سکتا ہے۔ یہ فرق کوئی برائی نہیں۔ اس فرق کے اندر ایک عظیم فائدہ چھپا ہوا ہے۔ فرق کا مطلب صرف فرق نہیں، بلکہ اس کا مطلب دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔ اگر عورت اور مرد دونوں میں ہر اعتبار سے یکسانیت پائی جائے تو وہ کوئی اچھی بات نہ ہوگی۔ یکسانیت نہ ہونا، ذہنی ترقی کا راز ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ جب تمام لوگ یکساں طور پر سوچیں تو کوئی بھی زیادہ نہیں سوچتا: When everyone thinks alike, no one thinks very much. مشترک زندگی کے لیے عدم مداخلت کی پالیسی بہترین پالیسی ہے۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader