خاندانی زندگی
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مقابلے میں بُرا سمجھنا۔ یہ مزاج خواتین میں عام ہے۔ اس کا نقصان سب سے زیادہ خود خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنے اس غیر حقیقی مزاج کی بنا پر وہ اپنے شوہر سے اور اپنے سسرال والوں سے گہرا تعلق قائم نہیں کر پاتیں۔ خالق نے ہر عورت اور مرد کو مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کے لیے کوئی بڑا رول مقدر ہے۔ اس رول کے لیے ضروری ہے کہ عورت اپنے نئے رشتے داروں کے ساتھ بھر پور تعلق قائم کرکے رہے۔ مگر اکثر عورتیں اپنے سسرال والوں کے ساتھ یہ تعلق قائم نہیں کر پاتیں اور نتیجہ یہ وہ رول ادا نہیں کر پاتیں جو اُن کے خالق نے اُن کے لیے مقدر کیا تھا۔ اس دنیا میں کسی بڑے رول کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔ گھر اسی قسم کا ایک اجتماعی ادارہ ہے۔ ہر گھر اپنی اجتماعی کوشش سے ایک بڑا کام کر سکتا ہے، لیکن یہ بڑا کام اُسی گھر کے لوگ انجام دیں گے جو اپنے گھر کو حقیقی معنوں میں ایک اجتماعی ادارہ بنا دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی عورت کے لیے اس کی سسرال بھی اسی طرح اس کا اپنا گھر ہے جس طرح اس کا میکہ اس کے لیے اس کا اپنا گھر تھا۔ ایک مشاہدہ امریکا کے ایک سفر میں مجھے ایک امریکی مسلمان کے گھر میں چند دن قیام کا موقع ملا۔ مذکورہ مسلمان کا نکاح ایک ایسی خاتون سے ہوا جو پاکستان میں پیدا ہوئیں، ان کی پوری پرورش پاکستان میں ہوئی۔ شادی کے بعد وہ امریکا چلی آئیں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader