Urdu book · خاندانی زندگی

بچوں کی دینی تربیت

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

پسندانہ ماحول نہ بنایا جائے، بچوں کے اندر کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ موجودہ زمانے کا اصل فتنہ مال ہے۔ آج کل ہر آدمی زیادہ سے زیادہ مال کما رہا ہے۔ اس مال کا مصرف والدین کے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے گھر کے اندر ہر قسم کی راحت کے سامان اکٹھا کرنا، اور بچوں کی تمام مادی خواہشوں کو پورا کرنا۔ موجودہ زمانے میں یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ اس معاملے میں شاید کسی گھر کا کوئی استثنا نہیں، خواہ وہ بے ریش والوں کا گھر ہو، یا باریش والوں کا گھر۔ والدین کے اس مزاج نے ہر گھر کو مادہ پرستی کا کارخانہ بنا دیا ہے۔ تمام والدین اپنے بچوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر مادہ پرستانہ ذہن بنانے کے امام بنے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے آخرت کی جنت سے بھی محروم نہ رہیں۔ اسی مزاج کے بارے میں ایک اردو شاعر نے کہا تھا— رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی مگر یہ صرف ایک خوش خیالی ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔ تمثیل کی زبان میں یہ ”ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا“ ہے۔ موجودہ زمانے کے والدین ایک طرف، اپنے بچوں کو ”مادی ہاتھی“ بناتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ چاہتے ہیں کہ اس ہاتھی کی دم میں دین کی پتنگ باندھ دی جائے۔ مگر ایسی پتنگ کا حال صرف یہ ہونے والا ہے کہ ہاتھی ایک بار اپنی دم کو جھٹکا دے اور یہ پتنگ اُڑ کر بہت دور چلی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو دین دار، یعنی آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو وہ اُس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page