Urdu book · خاندانی زندگی

خاندانی زندگی

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک وقت آئے گا جب کہ وہ اپنے خاندان سے باہر کے ایک مرد سے اس کا نکاح کریں گے اور اس کے ساتھ رہنے کے لیے لڑکی کو بھیج دیں گے۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ ماں باپ کے ساتھ جس ماحول میں لڑکی رہتی ہے، وہ اُس سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو بعد کو شوہر کے ساتھ رہنے کی صورت میں اُسے پیش آتا ہے۔ یہ بھی ایک واضح بات ہے کہ لڑکی کا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا عارضی ہوتا ہے اور شوہر کے ساتھ مستقل۔ ایسی حالت میں ماں باپ کو چاہیے کہ اپنی لڑکی کو وہ آداب سکھائیں جو اِس کے لیے بعد کی زندگی میں کام آنے والے ہیں۔ وہ اُس کو تربیت دے کر شوہر کی رفیق حیات بنائیں، نہ کہ محض والدین کی نورِ نظر۔ میرا تجربہ ہے کہ ننانوے فی صد سے زیادہ ماں باپ اس معاملے میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اُن کی اِس کوتاہی کی سزا اُن کی لڑکی کو ساری عمر اپنی بعد کی زندگی میں بھگتنی پڑتی ہے۔ مثلاً عورت اپنی غیر حقیقی تربیت کی بنا پر ہمیشہ اپنے میکے کو اپنا گھر سمجھتی رہتی ہے، حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنی سُسرال کو اپنا گھر سمجھے۔ اِسی طرح والدین شادی کے بعد بھی اپنی لڑکی پر اپنا حق سمجھتے ہیں اور غیر ضروری مداخلت کرتے رہتے ہیں۔ والدین کا یہ رویہ محبت کے نام پر دشمنی ہے۔ وہ صرف نادان دوستی ہے اور نادان دوستی ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔ ایک واقعہ ایک روز انڈیا کے ایک شہر سے میرے پاس ٹیلی فون آیا۔ ایک مسلم خاتون ٹیلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page