Urdu book · خاندانی زندگی

ایک واقعہ

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

فون پر بول رہی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ میری بہن اور ان کے شوہر کے درمیان شادی کے بعد اختلافات پیدا ہوگئے جو حل نہ ہوسکے۔ اب آخری طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان طلاق کرادی جائے۔ آج شام کو طلاق نامے پر دستخط ہونے والے ہیں۔ آپ دعا کیجیے کہ طلاق کے بعد میری بہن کی زندگی خوش گوار رہے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنی بہن سے کہیے کہ وہ مجھ سے بات کریں۔ اس کے بعد اُن کی بہن سے ٹیلی فون پر میری بات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے اور آپ کے شوہر کے درمیان کیا اختلافات ہیں۔ انھوں نے کچھ باتیں بتائیں۔ میں نے کہا کہ آپ جو کچھ بتا رہی ہیں، وہ کوئی اہم بات نہیں۔ وہ اختلاف کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی بڑھی ہوئی حساسیت کا مسئلہ ہے۔ بعض چیزوں کے بارے میں آپ غیر ضروری طور پر حساس ہوگئی ہیں۔ آپ اپنی اس حساسیت پر کنٹرول کیجیے۔ آپ یہ ذہن ختم کردیجیے کہ ’’میں ہی کیوں اُن کی بات مانوں، ان کو بھی تو میری بات ماننا چاہیے‘‘۔ میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے اُن سے کہا کہ زندگی دو طرفہ (bilateral) بنیاد پر نہیں چلتی، بلکہ زندگی ہمیشہ یک طرفہ (unilateral) بنیاد پر چلتی ہے۔ آپ اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں ہیں۔ اسی اصول کو قرآن میں قوّامیت (النساء: 34) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ہر کمپنی میں اور ہر اجتماعی ادارے میں ایک ناظم یا باس (boss) ہوتا ہے، اسی طرح گھر کے اندر بھی ایک فرد کو ناظم، یا باس (boss) کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک فطری اصول ہے۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page