Urdu book · خاندانی زندگی

جوائنٹ فیملی

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں ہی طریقے یکساں طور پر جائز ہیں۔ لیکن میرے تجربے کے مطابق، زوجین اگر باشعور ہوں وہ دانش مندی سے کام لیں تو مشترک خاندان کا طریقہ ہر اعتبار سے زیادہ مفید ہے۔ ہر گھر کی بہت سی ضروریات ہوتی ہیں۔ کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے ہمیشہ مختلف تقاضوں کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جو غیر مشترک خاندان کے مقابلے میں مشترک خاندان کو زیادہ مفید بنا دیتا ہے۔ غیر مشترک خاندان میں ابتداءً صرف دو ممبر ہوتے ہیں، عورت اور مرد۔ اس کے بعد اس میں بچوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مشترک خاندان میں بہت سے عورت اور مرد ہوتے ہیں یہ عورت اور مرد فطری طور پر مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ مشترک خاندان کے لیے بہت بڑا موافق پہلو ہے۔ کیوں کہ اس بنا پر یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ خاندان کے ہر فرد کو ہر کام نہ کرنا پڑے، بلکہ مجموعی تعاون سے سارے کام ہوتے رہیں۔ مشترک خاندان کا طریقہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے بہت زیادہ مفید ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہے۔ اور وہ قیمت ہے پیچھے ہٹنے کی اسپرٹ (receding) (spirit)، یعنی جب بھی کوئی نزاعی بات پیش آئے تو فوراً آپ پیچھے ہٹ جائیں، کسی بھی حال میں آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ مشترک خاندان کی کامیابی کی یہی واحد شرط ہے۔ جن لوگوں کے اندر اس شرط کو پورا کرنے کا حوصلہ نہ ہو، اُن کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ شادی کے بعد غیر مشترک خاندان کا طریقہ اختیار کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page