Urdu book · خاندانی زندگی

جوائنٹ فیملی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی میں ہر آدمی کو دو میں سے ایک کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ یا تو وہ ملنے والے فائدے کی خاطر اپنی انا کو قربان کردے، یا اپنی انا کو بچانے کے لیے اپنے آپ کو فائدے سے محروم کرلے۔ کسی بھی شخص کو بیک وقت دونوں چیزیں ملنے والی نہیں۔ ساس بہو کا مسئلہ ساس بہو کا روایتی مسئلہ تقریباً ہر گھر میں پایا جاتا ہے، مگر یہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ تر ایک غیر فطری نفسیات کے تحت پیدا ہوا۔ نفسیاتی مسئلہ ہمیشہ سوچ کی سطح پر پیدا ہوتا ہے، اور سوچ کی سطح پر نہایت آسانی سے اس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک گھر ہے، وہاں ایک چار پائی بچھی ہوئی ہے۔ ماں اس چار پائی کے اوپر بیٹھی ہوئی ہے۔ اُس وقت اگر بیٹی وہاں آئے اور وہ بے تکلفی کے ساتھ لیٹ جائے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ماں چار پائی پر بیٹھی ہے اور بہو وہاں آ کر لیٹ جائے تو ایسا واقعہ فوراً ایک مسئلہ بن جائے گا۔ اب کہا جائے کہ بہو بہت بد تمیز ہے۔ اس کے ماں باپ نے اس کو ادب نہیں سکھایا، وغیرہ۔ اِس صورتِ حال کی ذمے داری ماں اور بہو دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ ماں اگر اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھے، اور بہو اگر اپنی ساس کو اپنی ماں جیسا درجہ دے تو یہ سارا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور ساس اور بہو اُسی طرح خوش گوار ماحول میں رہنے لگیں گی جس طرح ماں اور بیٹی خوش گوار ماحول میں رہتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک نظام ہے کہ ہر بیٹی کو آخر کار بہو بن کر رہنا پڑتا ہے اور ہر ماں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page