Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

جر مین گر یراپنی جوانی کی عمر میں اتنی آزاد خیال تھیں کہ وہ نکاح کے طریقہ کو ختم کرنے کی وکیل بنی ہوئی تھیں۔ مگر اب وہ بدل چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ماؤں کو اپنے ساتھ نہیں لیا۔ ہم نے انھیں پیچھے چھوڑ دیا اور ان کو قدامت پرست سمجھ لیا۔ اب جب کہ ہم میں سے اکثر ماں بن چکی ہیں۔ اور ہمارے ساتھ لڑکیاں ہیں تو اب ہم مسائل کو کسی قدر مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ شاید اب ہم اپنی ماؤں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کے پاس مرد اور عورت کے درمیان نا برابری کے مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ مغربی عورت کا یہ خیال غلط ہے کہ پردہ دار عورتوں کو برابری حاصل نہیں ہے اور وہ عورتیں جو بناؤ سنگار کے ساتھ اور کھلے سر ہوتی ہیں وہ آزاد ہیں۔ اس فکر کو اب رد کر دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ نام نہاد مہذب مغرب میں بھی عورتوں کے مارنے کے واقعات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ امریکا اور انگلینڈ جیسے ملکوں میں بھی تنخواہ اور ملازمت کے معاملے میں عورتوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ انگلینڈ میں جرائم کی چوتھائی تعد اد عورتوں کے خلاف تشدد سے متعلق ہے۔ امریکا کی 15 فی صد عورتوں کو ان کے شوہر یا بوائے فرینڈ مارتے پیٹتے ہیں۔ (ٹیلی گراف 11 اکتوبر 1987) فرانس کی مزبیلیسی اس معاملہ میں اور بھی زیادہ کھل کر بولتی ہیں۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ خواتین نے جو کچھ چاہا تھا وہ سب انھوں نے پالیا۔ مگر ان کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ انھوں نے کہا کہ عورتیں بہت مخصوص قسم کی اخلاقی اقدار رکھتی ہیں۔ انسانیت کے بارے میں وہ ایک مختلف نقطہ نظر کی حامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتوں کا نقطہ نظر بہتر ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عورتوں کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کو عورت ثابت کریں، نہ کہ غیر حقیقی طور پر مرد بننے کی کوشش کریں۔ (انڈین ایکسپریس، 14 جنوری 1987)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page