خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب کی تعلیمات کے مطابق عورت کا ”رول ماڈل“ یہ تھا کہ وہ گھر کو سنبھالے اور بچوں کی تربیت کرے۔ موجودہ زمانہ میں عورتوں کا رول ماڈل یہ بنایا گیا کہ وہ باہر کی زندگی میں نکلیں اور ہر شعبہ میں بالکل مردوں کی طرح کام کریں۔ یہ دوسرا رول ماڈل تجربے کے بعد قابل عمل ثابت نہ ہوسکا۔ اپنے بڑھاپے کی عمر میں وہی مغربی خواتین پرانے رول ماڈل کی حمایت کر رہی ہیں جنھوں نے اپنی جوانی کی عمر میں نئے رول ماڈل کی پرجوش وکالت کی تھی۔ کیا اس کے بعد بھی مذہب کے بتائے ہوئے رول ماڈل کی معقولیت پر شبہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔ درد ناک انجام پلین ٹروٹھ (The Plain Truth) ایک مشہور امریکی میگزین ہے۔ وہ 785000 کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ اس ماہنامہ کی اشاعت ستمبر 1986 میں صفحہ اول پر ایک امریکی لڑکی کی تصویر ہے جو حیرانی کے عالم میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لڑکی کا نام سالی (Sally) ہے۔ میگزین میں اس لڑکی کا ایک خط شائع ہوا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا خط ہے مگر وہ جتنا چھوٹا ہے اتناہی زیادہ وہ درد ناک ہے۔ وہ مختصر خط ہے۔ When I was 8 years old I first had sex with a boy of 15. I did it because I lack love and attention from my parents. I need love, and my parents never show me any. Nothing really changed at home, and at 15 I became pregnant. My boyfriend blamed me and left. I had nowhere to turn, I was trapped, so I had an abortion. Now I’m afraid to date anyone, and I cry myself to sleep every night. (p. 5) ترجمہ: جب میری عمر آٹھ سال تھی اس وقت میں نے پہلی بار ایک پندرہ سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی فعل کیا۔ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں اپنے والدین کی طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader