Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک جائزہ سر جیمز جینز (1877-1946) کی ایک کتاب ہے جس کا نام انھوں نے پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) رکھا ہے۔ یہ موجودہ کائنات کی صحیح ترین تعبیر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری محدود عقل کی نسبت سے پوری کائنات ایک پر اسرار کائنات ہے۔ انسان اپنی عقل سے صرف قیاسات قائم کر سکتا ہے، وہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ کائنات کی اسی پر اسراریت نے قدیم زمانے میں وہ چیز پیدا کی جن کو اب خرافات (Myths) کہا جاتا ہے۔ انسان نے محض قیاس و گمان کے تحت بہت سے فرضی عقیدے بنا لیے۔ یہ قیاسات بڑھتے رہے یہاں تک کہ پوری انسانیت پر چھا گئے۔ ہر زمانے میں انسان کا ایک نظام عقائد ہوتا ہے۔ اسی نظام عقائد کے مطابق اس کی سوچ اور اس کے عمل کا نقشہ بنتا ہے۔ قدیم زمانہ میں عقائد کا یہ نظام اوہام وخرافات (Myths) پر قائم تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں پہلی بار انسان کا نظام عقائد بدلا اور اوہام کے بجائے حقائق کو اہمیت دی جانے لگی۔ یہ انقلاب اسلام کے زیر اثر ہوا۔ یہ اوہام کائنات کی توجیہ کے لیے وجود میں آئے۔ خداؤں نے کس طرح آسمانوں، زمین، نباتات اور جانوروں اور انسانوں کو پیدا کیا۔ انسانی اداروں اور عالمی نظام کی خدائی اصل کیا ہے۔ کامیابی اور ناکامی کے خدائی ضابطے کیا ہیں۔ ان بنیادی سوالوں کے جواب کے لیے توجہی اوہام وجود میں آئے۔ مثال کے طور پر مرد اور عورت کے درمیان کشش اور اس کے نتیجے میں شادی کا ادارہ وجود میں آنا۔ اس کی توجیہ اس فرضی قصے سے کی گئی کہ ابتداء میں مرد ہی واحد مخلوق تھا۔ اس کے بعد وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا—ایک مرد اور دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page