فطرت سے دور ہو کر
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا کہ بچوں کو اپنے والدین کی سرپرستی پختگی کی عمر تک حاصل رہے گی۔ جدید ترقی یافتہ سماج میں یہ استثنا اب عموم بن گیا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے جدید تصور زندگی کا جس نے نکاح کے رشتہ کو غیر مقدس بنا دیا ہے۔ اب یا نکاح کے بغیر لڑکے پیدا ہوتے ہیں یا نکاح کے جلد ہی بعد طلاق کی شکل میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہے۔ بچوں کی اپنے ماں باپ سے جدائی۔ بچوں کا اپنے والدین کے جیتے جی یتیم ہو جانا۔ اس بڑھتی ہوئی "یتیمی" نے جدید معاشرہ کے لیے طرح طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا کر دیے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کو محرومی کا بونا پن (deprivation dwarfism) کا نام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مغرب کے طبی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ (ایوننگ نیوز 27 جون 1984) سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں مغربی طرز حیات کے نتائج کے بارے میں بہت سے انکشافات کیے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ سے محرومی کی بنا پر جن بچوں کو ابتدائی عمر میں محبت نہیں ملتی ان میں مختلف قسم کا نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً جسمانی نشوونما میں کمی، دماغ کا ہلکا پن، حتیٰ کہ یہ چیزیں بعض اوقات ان کی قبل از وقت موت کا باعث ہو جاتی ہیں۔ محرومی کا بونا پن نامی بیماری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ ٹھیک طرح سو نہیں پاتا، اس کا نظام ہضم ٹھیک طرح کام نہیں کرتا۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسپتالوں میں جہاں چھوٹے بچے بیڈ پر ڈال دیے جاتے ہیں، پیٹھ کے بل دیر دیر تک پڑے رہنے سے ان کے سر کا پچھلا حصہ گنجا ہو جاتا ہے کیوں کہ وہاں کوئی ماں بار بار کروٹ بدلنے کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ ماں باپ سے محروم ہو کر دار الاطفال میں پرورش پانے والے بچے اپنے ذہنی اور جسمانی ارتقاء سے محروم رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader