خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد ایک چھت سے کود کر اپریل 1986 میں اپنی جان دے دی تھی۔ نوجوانوں نے بھی اسی کی نقل کی۔ کچھ لوگ جنھوں نے اس طریقہ سے اپنی جان دی وہ مس اوکا دا کی موت سے غم زدہ تھے۔ انھوں نے چاہا کہ وہ بھی موجودہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور جنت میں پہنچ کر اپنی دل پسند سنگر سے جاملیں۔ کچھ لوگوں نے مرتے وقت ایسی تحریر چھوڑی جس میں مذکورہ پاپ سنگر خاتون کا نام لکھا ہوا تھا: یہ ان بے شمار نقصانات میں سے ایک نقصان ہے جو عورتوں کو ’’اسکرین‘‘ کی چیز بنانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ عورت اگر گھر کو سنبھالے تو وہ نوجوان نسل کو زندگی دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ گھر سے باہر نکل کر لوگوں کی تفریح کا سامان بنے تو وہ نوجوان نسل کو ہلاکت سے دوچار کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ فطرت سے دور ہو کر انسان کا بچہ تمام جانداروں کے بچے میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے۔ اس کو جسمانی پرورش اور ذہنی تربیت دونوں مقصد کے لیے لمبے عرصہ تک اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے انسان کے اندر اپنے بچے کے لیے خصوصی کشش رکھی ہے۔ قدیم زمانہ میں بچے کے لیے اپنے باپ یا ماں سے محروم ہونا صرف ہنگامی اسباب سے ہوتا تھا۔ جنگ یا کسی اتفاقی حادثے سے قبل از وقت موت۔ عام حالات میں یقین کیا جا سکتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader