خاتون لیڈر کا اعتراف
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
اور بچوں کی پرورش تنخواہوں میں زبردست فرق کا سبب ہیں۔ معاشی حقیقت روحانی برابری سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ آزادی نسواں کے علم برداروں نے جنسی برابری اور اسقاط کے حق کے لیے شور وغل کیا اور اس کو حاصل کر لیا، وہ اس معاشی تباہی کا اندازہ نہ کر سکے جو کہ اس کے بعد آنے والی تھی۔ انقلابی نسوانی تحریک کے تحت عورت اور مرد برابر مان لیے گئے ہیں، مگر عورت کو اس کے حیاتیاتی فرق کی کوئی رعایت نہیں ملی۔ مثال کے طور پر، امریکا میں ہر دو شادی میں سے ایک شادی طلاق پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد بچے کی پرورش کی ذمہ داری تنہا عورت پر آجاتی ہے۔ نفقہ اور گزارہ محض لفظی قوانین ہیں، وہ بہت ہی کم عمل میں آتے ہیں۔ صرف 5 سے 10 فی صد تک ایسے مرد ہیں جو گزارہ ادا کرتے ہیں، اور وہ بھی صرف پہلے سال تک۔ بعد کے سالوں میں پورا بوجھ صرف ماں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس طرح زندگی کا معیار ایک مطلقہ عورت کے لیے 73 فی صد تک گھٹ جاتا ہے، اور مرد کا اس کے مقابلہ میں 43 فی صد بڑھ جاتا ہے۔ اس قسم کی اکیلے کی زندگی کو مغرب میں مونو پیرنٹ (Monoparent) کہا جانے لگا ہے۔ ایسے گھروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں صرف عورت ذمہ دار ہو اور وہ تنہا ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرے۔ چنانچہ اگلے دس برسوں میں 40 تا 50 فی صد بچے وہ ہوں گے جو ایسے گھروں میں پرورش پائیں گے جن کی ذمہ دار صرف عورت ہو۔ یہ ایک غیر صحت مندانہ مظہر ہے جس کے نتیجہ میں بچوں میں خود کشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ خاندانی نظام میں انحصار کے فقدان کی وجہ سے خودکشی بچوں کی خصوصیت بن رہی ہے۔ اشتراک کی نسوانیت جو کہ مرد اور عورت کے درمیان پائے جانے والے ناگزیر فرق کو ملحوظ رکھتی ہے آج وقت کی پکار ہے۔ امریکی زندگی کے بارے میں (ابتداء) ہمارا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader