Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کو کوئی آزادی حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو اپنی آزادی کا استعمال اس طرح کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں خدا کے احکام کا پابند ہے۔ یہی پابندی آزادی کے صحیح استعمال کی ضمانت ہے۔ خاتون لیڈر کا اعتراف امریکا کی مشہور ناول نگار خاتون اور تحریک نسواں کی لیڈر رہوڈ الرمین اپریل 1987 میں ہندوستان آئیں ۔ یہاں نئی دہلی میں انھوں نے ٹائمس آف انڈیا کے ایک اسٹاف رپورٹر کو انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو اخبار مذکور کے شمارہ 30 اپریل 1987 میں شائع ہوا ہے۔ یہ پورا انٹرویو اگلے صفحہ پر نقل کیا جارہا ہے۔ رہوڈ الرمین نے کہا کہ میں بہت بڑی خبر لے کر آئی ہوں ۔ سماج میں عورت کے بدلتے ہوئے کردار پر بولتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکا کے غریبوں میں 77 فی صد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق اس کا سبب وہ غیر معمولی فرق ہے جو مردوں اور عورتوں کی کمائی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی کمائی 62 فی صد ہے۔ صرف اس لیے کہ انھیں ہلکے قسم کے کام دیے جاتے ہیں۔ یکساں مواقع اور یکساں تنخواہ یکساں کام کے لیے محض ایک افسانہ ہے۔ عورتیں ابھی تک صرف نچلے اور درمیانی انتظامی شعبوں میں داخل ہوسکی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ امتیازی مردانہ تعصب کی بنا پر ہے جو عورتوں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ مردوں کا کہنا ہے کہ عورتوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ وہ زچہ کی چھٹی لیتی ہیں اور بچے پالتی ہیں۔ اگر چہ 94 فی صد کام کرنے والی عورتوں کے یہاں بچے ہیں، ان میں سے صرف 67 فی صد اس اندیشہ کے بغیر زچہ کی چھٹی سے فائدہ اٹھاتی ہیں کہ اس سے ان کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تا ہم سنیورٹی کا نقصان انھیں ہمیشہ اٹھانا پڑتا ہے۔ زچہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page