Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتون لیڈر کا اعتراف

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

American dream—of a husband who works, a house in the suburbs, two children, two cars and a mother who stays at home and bakes cookies. With the family structure falling apart, she feels that only government support in the form of day-care centers, maternity leave benefits and subsidies to override the economic limitations of single women can hold the social fabric together. “Otherwise, our victories will be merely Pyrrhic victories,” 34 she predicts, similar, perhaps to the freedom experienced on the funeral pyre.’ (The Times of India, New Delhi, April 30. 1987) امریکا کی خاتون لیڈر نے مذکورہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ تحریک نسواں کی کامیابیاں پرک فتوحات (pyiric victories) بن کر رہ گئی ہیں۔ تیسری صدی قبل مسیح میں ایک یونانی بادشاہ تھا جس کا نام پرھس (Pyrrhus) تھا۔ اس نے 281 ق م میں اٹلی پر حملہ کیا۔ لمبی جنگ کے بعد اس کو فتح حاصل ہوئی۔ مگر فتح تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنا سب کھو چکا تھا۔ چنانچہ بعد کو 275 ق م کی جنگ میں اس کو دوبارہ شکست ہوئی۔ 272 ق م میں اس کو قتل کر دیا گیا۔ پرک وکٹری اسی کی طرف منسوب ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ ایسی فتح جو بربادی لے کر آئے۔ یہ صحیح ترین لفظ ہے جو جدید عورت کی فتح کے بارے میں بولا جا سکتا ہے۔ جدید عورت نے لمبی جد و جہد کے بعد ”مساوات“ حاصل کی۔ مگر اس خیالی مساوات کو حاصل کرنے تک وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی۔ مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ مغربی عورت کی محرومی کی تلافی کی اب صرف ایک صورت ہے۔ یہ کہ حکومت اس کی سرپرست بن جائے ، وہی حکومت جو آج بھی پوری طرح مردوں کے قبضہ میں ہے۔ گھر یلو مرد کی سر پرستی پر عورت راضی نہ تھی۔ اس کی قیمت میں عورت کو حکومتی مرد کی سر پرستی پر راضی ہونا پڑا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page