Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

معنی ہوئے حصوں میں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ چنانچہ کسی چیز کے نصف کو شق الشئ کہتے ہیں۔ اسی سے مزید وسعت پا کر شقیق بمعنی بھائی اور شقیقہ بمعنی بہن بولا جانے لگا۔ اس تشریح کے مطابق مذکورہ حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ عورتیں مردوں کا نصف ثانی ہیں یا عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ جدید تہذیب میں عورت کو نصف بہتر(better half) کہا گیا ہے۔ مگر یہ ایک ادبی تعبیر ہے، نہ کہ سائنسی تعبیر۔ حدیث کے مطابق، عورت مرد کا نصف ثانی (second half) ہے، اور یہ یقیناً زیادہ صحیح اور سائنسی تعبیر ہے۔ اسی ایک لفظ سے عورت کے بارے میں اسلام کے پورے نقطہ نظر کو سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب گویا حدیث کے اسی بیان کی تفصیل ہے۔ تقسیم کار کا اصول اسلام نے سماجی زندگی میں دونوں صنفوں کے عمل کے درمیان ایک حد تک تقسیم کار کا اصول اختیار کیا ہے۔ مرد کی سرگرمیوں کا دائرہ بنیادی طور پر باہر ہے اور عورت کی سرگرمیوں کا دائرہ بنیادی طور پر اندر۔ اس تقسیم کا کوئی بھی تعلق امتیاز سے نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دونوں کی صنفی خصوصیات مجروح نہ ہوں۔ دونوں اپنی پیدائشی صلاحیتوں کو پوری طرح کام میں لاسکیں، بغیر اس کے کہ خاندان یا سماج کے اندر کوئی رخنہ واقع ہو۔ بالفاظ دیگر، یہ فرق انتظام کی بنیاد پر ہے، نہ کہ اعزاز کی بنیاد پر۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مغفرت کے لیے جو چیزیں درکار ہیں وہ عورتوں کے لیے بھی وہی ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ آخرت کی نجات کا مستحق بننے کے لیے عورتوں کو بھی وہی کرنا ہے جو مردوں کو کرنا ہے۔ دنیا میں زندگی کا انتظام چلانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر حیاتیاتی فرق رکھا گیا ہے۔ اس اعتبار سے بعض امور میں دونوں کے حدود کار ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page