Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ تاہم خدا کی رضا اور آخرت کی نجات حاصل کرنے کے لیے جو بنیادی شرط درکار ہے، وہ ایک صنف کے لیے بھی وہی ہے جو دوسری صنف کے لیے ہے۔ اسلام کا آغاز حقیقتاً خدا کی شعوری دریافت سے ہوتا ہے جس کو ایمان کہتے ہیں۔ یہ ایمان اگر حقیقی ہو تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ مرد یا عورت خدا کے آگے جھک پڑتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ان کا اثاثہ خدا کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔ خدا کی خاطر وہ صبر کرنے والے بن جاتے ہیں۔ وہ جھوٹ چھوڑ دیتے ہیں اور سچ بولنے والے بن جاتے ہیں۔ وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں سال کے ایک مہینہ میں کھانا پینا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرتے ہیں۔ اپنی عبدیت کا شعور اور خدا کی معرفت ان کا یہ حال کر دیتی ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر موقع پر خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ ایک آیت یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا کو ہر فرد کے اندر درکار ہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ قرآن میں یہ بات مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتی ہے: اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقَانِتِيْنَ وَالْقَانِتٰتِ وَالصَّادِقِيْنَ وَالصَّادِقٰتِ وَالصَّابِرِيْنَ وَالصَّابِرٰتِ وَالْخَاشِعِيْنَ وَالْخَاشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّائِمِيْنَ وَالصَّائِمٰتِ وَالْحَافِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحَافِظٰتِ وَالذَّاكِرِيْنَ اللَّهَ كَثِيْرًا وَالذَّاكِرَاتِ اَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا (33:35)۔ یعنی، بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page