Urdu book · خاتونِ اسلام

ایک آیت

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ہنا۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر قائم رہنا۔ غیر خدائی محرکات کی بنا پر خدائی راستہ کو نہ چھوڑنا۔ خشوع اس کا مفہوم تواضع اور خاکساری ہے۔ یہ کیفیت وہ ہے جو خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے اوپر سب سے زیادہ جو چیز چھائی ہوئی ہوتی ہے وہ خدا کا خوف ہے۔ یہ احساس ان کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ اور دوسرے انسانوں کے سامنے بھی ان کو متواضع اور مہربان بنا دیتا ہے۔ صدقہ یعنی وہ اپنے مال میں سے بندوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس انھیں اپنے اوپر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے اسی طرح وہ دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا نہیں ہوتے۔ صوم یعنی اللہ کے لیے روزہ رکھنا۔ روزہ رکھ کر آدمی اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتا ہے جب کہ وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کرے اور پھر اس رزق پر خدا کا شکر ادا کرے جو خدا نے اس کو اپنے پاس سے عطا کیا ہے۔ حفظ فروج یعنی عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی والے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے، اس کا پورا لحاظ رکھنا۔ ذکر اللہ خدا کو بہت زیادہ یاد کرنا خدا کی حقیقی دریافت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پالینا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا یاد آتا ہے وہ دل اور زبان سے بار بار خدا کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ التحریم (آیت 5) میں عورتوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں تین مزید صفتوں کا ذکر ہے: توبہ، عبادت، سیاحت۔ تو بہ تو بہ کے معنی ہیں لوٹنا۔ یعنی غلطی کر کے پلٹ آنا۔ یہ مومن اور مومنہ کی نہایت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page