ایک آیت
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
خاص صفت ہے۔ اس دنیا میں ایسے امتحانی اسباب رکھے گئے ہیں کہ آدمی سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہیے کہ نفس کے غلبہ سے آدمی وقتی طور پر غلطی کر جائے۔ تو اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔ تو بہ اپنے مقابلہ میں خدا کی عظمت کا اعتراف ہے۔ وہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ عبادت — عبادت سے مراد وہ عمل ہے جو کسی کی فوق الفطری بڑائی کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اسی کو پرستش کہتے ہیں۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ مومن اور مومنہ کی عبادت صرف خدا کے لیے ہوتی ہے۔ سیاحت — اس کی بہترین تشریح اس حدیث میں ملتی ہے جو ابو داؤد میں آئی ہے: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ( سنن ابو داود ، حدیث نمبر 2486)۔ یعنی ، حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول مجھ کو سیاحت ( درویشی) کی اجازت دیجیے آپ نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد (کوشش کرنا) ہے۔ سیاحت سے مراد اللہ کے راستہ کا وہ عمل ہے جس کی خاطر چلنا پھر ناپڑے۔ مثلاً علم دین حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا۔ دین کی خاطر ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام کی طرف ہجرت کرنا۔ نصیحت کی غرض سے فطرت کے مناظر اور تاریخی عبرت کے مقامات کو دیکھنے کے لیے جانا۔ اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے دوڑ دھوپ کرنا ، وغیرہ۔ امام راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات القرآن ( صفحہ 431) میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے میں سائحون سے وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن کی اس آیت کا مصداق ہیں: أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ أَذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا (22:46)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader