Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

فضیلت کو بتاتی ہیں ۔ ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو کتنا بلند درجہ دیا گیا ہے ۔ اور ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے اسلام میں کتنا وسیع میدان کھلا ہوا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات اسلام کے امتیاز کو بتا رہے ہیں ، نہ کہ محض کسی ایک شخص کے ذاتی امتیاز کو ۔ اسلام نے حضرت عائشہ کی صلاحیتوں کو اس حد تک ترقی دی کہ انھوں نے اہم سیاسی اور سماجی خدمات انجام دیں ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ( 1984 ) میں ان کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا گیا ہے : ‘Aishah, the third wife of the Prophet Muhammad, who played a role of some political importance after the Prophet’s death.’ (Encyclopedia Britannica, 1/167) عائشہ جو پیغمبر ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تیسری اہلیہ تھیں ۔ انھوں نے پیغمبر کی وفات کے بعد کچھ ایسے رول ادا کیے جو سیاسی اہمیت رکھنے والے تھے ۔ یہاں خواتین اسلام کے سلسلہ میں چند واقعات نقل کیے جاتے ہیں ۔ دو خواتین ﯨ سَمِعْتُ عَلِيًّا بِالْكُوفَةِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2430 ) ۔ حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا : اُن کی سب سے بہتر خاتون مریم بنت عمران تھیں اور اُن کی سب سے بہتر خاتون خدیجہ بنت خویلد ہیں ۔ فتح الباری میں طیبی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَلضَّمِيرُ الْأَوَّلُ رَجَعَ إِلَى الْأُمَّةِ الَّتِي

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page