دو خواتین
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
الْأَوْلَادَ مِنْهَا، إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ (الشریعۃ للآجری، حدیث نمبر 1681؛ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 22)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کی تعریف کیے بغیر گھر سے نہ نکلتے تھے۔ ایک روز آپ نے خدیجہ کا ذکر فرمایا تو مجھے غیرت آ گئی۔ میں نے کہا وہ ایک بڑھیا ہی تو تھیں اور اللہ نے اس کے بدلے آپ کو زیادہ بہتر دیدیا ہے۔ آپ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا۔ خدا کی قسم نہیں، خدا نے مجھے خدیجہ سے بہتر نہیں دیا۔ وہ ایمان لائیں جب کہ لوگوں نے انکار کیا۔ انہوں نے میری تصدیق کی جب کہ لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی جب کہ لوگوں نے مجھے محروم کیا۔ اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی جو دوسری بیویوں سے نہ دی۔ حضرت مریم اور حضرت خدیجہ کو تاریخ کی معیاری خواتین کی حیثیت کیوں حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن اللہ کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں ملا دیا۔ یہود کے آخری زمانہ میں ایک ایسی خاتون درکار تھیں جو حضرت مسیح جیسے معجزاتی پیغمبر کی ماں بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ قوم یہود کے آخری پیغمبر کو باپ کے بغیر پیدا کرے ۔ اس مقصد کے لیے ایسی خاتون درکار تھیں جن کی عصمت اور پاکبازی اتنی مسلم ہو کہ کسی کو ان کے بارے میں ادنیٰ شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ حضرت مریم نے اپنی غیر معمولی زندگی سے اس کا ثبوت دیا۔ اس لیے وہ حضرت مسیح کی ماں بنائے جانے کے لیے چن لی گئیں۔ اسی طرح آخری رسول کے حالات کے اعتبار سے ان کو ایسی خاتون کی ضرورت تھی جو اپنی زندگی اور اپنا اثاثہ پوری طرح پیغمبر کے حوالے کر دیں اور کبھی کسی بات پر شکایت نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader