Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں۔ حضرت خدیجہ کے امتیازی اوصاف کی بنا پر خدا نے ان کو اس خدمت خاص کے لیے چن لیا۔ انہوں نے اپنی زندگی، اپنا اثاثہ، اپنا آرام وراحت، سب کچھ پیغمبر خدا کے لیے وقف کر دیا۔ سخت ترین مصائب کے باوجود کبھی اُف نہ کیا۔ ان کی انہیں خصوصیات نے انہیں خدا کی نظر میں اس قابل بنایا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کی رفیقۂ حیات بنیں۔ اسلام کے مشن کے لیے ہر دور میں ایسی عورتوں اور ایسے مردوں کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ امتحانی دنیا میں زیر عمل لائے جانے والے خدائی منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کریں۔ جو خدا کے کاگ (cog) میں اپنا کاگ ملائیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد صبر آزما عمل ہے۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں خدا کی مدد کرنا کہا گیا ہے۔ اور بلاشبہ کسی مرد یا عورتوں کے لیے اس سے بڑا اور کوئی درجہ نہیں۔ بہترین رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ بنت خویلد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی اہلیہ تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوّت ملی اور فرشتہ جبریل نے آپ کو خدا کی پہلی وحی پہنچائی تو آپ پر اس کا شدید تاثر تھا۔ یہ واقعہ غارِ حرا میں پیش آیا تھا۔ آپ وہاں سے اتر کر اپنے مکان پر آئے۔ اور حضرت خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ نے جو جملہ کہا وہ تاریخ میں ان الفاظ میں محفوظ ہے: كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ أَبَدًا، فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيْثَ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَق (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 386)۔ یعنی، ہرگز نہیں، خدا کی قسم اللّٰہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page