باب سوم
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
زوجین کے حقوق قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ عورتیں مردوں کے لیے لباس ہیں اور مرد عورتوں کے لیے لباس ہیں: هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ (2:187)۔ یہ الفاظ تمثیل کے انداز میں بتاتے ہیں کہ قرآن کے نزدیک عورت اور مرد ایک دو سرے کے لیے کیا ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہیں۔ جسم لباس کے بغیر ادھورا ہے اور لباس جسم کے بغیر بے معنی ہے۔ یہی معاملہ مرد اور عورت کا ہے۔ لباس اور جسم کے درمیان جو مادی تعلق ہوتا ہے، وہی تعلق زیادہ گہرے نفسیاتی معنی میں عورت اور مرد کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ایک چڑیا اپنے پروں کے ساتھ قدر خوبصورت معلوم ہوتی ہے لیکن اگر چڑیا کے تمام پر اس کے جسم سے جدا کر دیے جائیں تو اس کا پورا حلیہ بگڑ کر رہ جائے گا۔ چڑیا کے لیے اس کے پروں کی جو اہمیت ہے وہی اہمیت انسان کے لیے اس کے لباس کی ہے۔ لباس کے بغیر انسان ویسا ہی ہے جیسے پروں کے بغیر چڑیا۔ لباس کی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کتنی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قریبی ساتھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے آخری حد تک جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں۔ عورت کے بغیر مرد کا وجود ادھورا ہے اور مرد کے بغیر عورت کا وجود ادھورا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے تقویت ملتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا پردہ ہیں۔ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader