Urdu book · خاتونِ اسلام

باب سوم

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی مفسر کے الفاظ میں، دونوں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح موزوں ہیں جس طرح لباس جسم کے اوپر موزوں ہوتا ہے۔ “Fitting into each other as a garment fits the body.” مرد اور عورت کے درمیان پیدائشی طور پر صنفی کشش رکھی گئی ہے۔ مرد کے لیے عورت کے اندر کشش ہے اور عورت کے لیے مرد کے اندر کشش ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (30:21) یعنی، اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے پیدا کیا تمہاری جنس سے جوڑے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کریں۔ اس فطری تعلق کی بنا پر عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط ہو۔ مگر یہ طریقہ فطرت انسانی کے سراسر خلاف ہے۔ انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ جو چیز اس کی ہے وہ صرف اسی کے لیے خاص رہے۔ اس لیے آزادانہ صنفی تعلق کا طریقہ انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اکثر غلط طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے۔ انسان اور حیوان میں جسمانی مشابہت ہے۔ مگر اخلاقی اعتبار سے انسان کا معاملہ حیوانات سے یکسر مختلف ہے۔ حیوانات اپنے اندر کوئی اخلاقی احساس نہیں رکھتے۔ مگر انسان کے اندر اخلاقی احساس موجود ہے۔ اس اخلاقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page