Urdu book · خاتونِ اسلام

تہذیبِ جدید کا مسئلہ

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جدید مغربی عورت کے بارے میں ایک رپورٹ کا خلاصہ اخبارات میں حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوا ہے: فرانس میں ایسے مردوں اور عورتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرانس میں 12 ملین شادی شدہ جوڑے ہیں اور ایک ملین سے زیادہ غیر شادی شدہ جوڑے۔ 1972 سے روایتی نکاح کی تعداد میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکا کے بارے میں اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عورتوں میں نکاح کی شرح تیزی سے کم ہو رہی ہے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ نکاح کی تعداد میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ امریکی عورتیں شادی اور روزگار میں ٹکراؤ محسوس کرتی ہیں۔ شادی شدہ زندگی کے ساتھ کام کرنا انھیں مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے بہت سے نوجوان لڑکوں اور لڑکوں نے میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا ہے بغیر اس کے کہ انھوں نے باقاعدہ نکاح کیا ہو۔ عملی شادی، ایک مرد اور ایک عورت کا ایک ساتھ رہنا بغیر اس کے کہ انھوں نے نکاح کیا ہو، نہ صرف یہ کہ ہیم برگ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ وہ ایک خاص جرم انداز بنتا جا رہا ہے۔ اب یہ رجحان پیدا ہو رہا ہے کہ غیر شادی شدہ جوڑوں کے درمیان قانون دانوں کے ذریعہ زیادہ مفصل قسم کے معاہدے کیے جائیں۔ پچھلے دس برسوں میں ایسے غیر شادی شدہ جوڑوں کی تعداد چار گنا بڑھ گئی ہے جو ایک ساتھ (میاں بیوی کی طرح) رہتے ہیں۔ یہ بات ایک حالیہ جائزہ میں بتائی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دس برس کے دوران 18 سال اور 25 سال کے درمیان عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں میں دس گنا حد تک عملی شادیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس طرح اب مغربی جرمنی میں ان جوڑوں کی تعداد بڑھ کر ایک ملین تک پہنچ جاتی ہے جو ہر صبح کو ایک ساتھ اٹھتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے اپنے آپ کو نکاح کے بندھن میں نہیں باندھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page