تہذیبِ جدید کا مسئلہ
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
بیویوں کو جورم ادا کرنی پڑی اس نے برٹرینڈ رسل کی معاشیات کو برباد کر دیا۔ چنانچہ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے: مالیاتی بوجھ میرے اوپر بہت بھاری اور پریشان کن تھا۔ مجھ کو اپنے نوبیل انعام کے گیارہ ہزار پاؤنڈ میں سے دس ہزار پاؤنڈ اپنی تیسری بیوی کو دے دینا پڑا۔ اور اب میں اس کو اور اپنی دوسری بیوی کو نان نفقہ کی رقم بھی ادا کر رہا تھا۔ اور اسی کے ساتھ اپنے چھوٹے بچے کی تعلیم کی ادائیگی بھی میرے ذمہ تھی۔ مزید یہ اضافہ یہ کہ میرے بڑے لڑکے کی بیماری کے سلسلہ میں بھی بھاری اخراجات تھے۔ اور اس لڑکے کے کئی سال کا انکم ٹیکس جو وہ ادا نہیں کر سکا تھا وہ بھی مجھ کو ہی ادا کرنا پڑا۔“ مغرب کا یہ قانون بظاہر عائلی زندگی میں اصلاح کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر وہ مغربی ممالک کے لیے الٹا پڑا۔ برٹرینڈ رسل کے مذکورہ تجربہ جیسے تجربات بے شمار لوگوں کو پیش آئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں انھیں اس کی بہت بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ لوگوں کو نکاح کا طریقہ بے حد مہنگا معلوم ہوا۔ حتیٰ کہ ان کے اندر نکاح کے خلاف رجحان پیدا ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت اور مرد نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگے ۔ چنانچہ آج مغرب کی نئی نسل میں تقریباً 50 فی صد وہ لوگ ہیں جو غیر منکوحہ بیویوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader