فاطمہ کا جہیز
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
فاطمہ کا جہیز وہ ”جہیز“ کیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو دیا۔ اس کی تفصیل روایات میں آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معروف معنوں میں کوئی جہیز نہ تھا بلکہ انتہائی معمولی قسم کا چند ضروری سامان تھا۔ یہاں ہم اس سلسلہ کی چند روایات نقل کرتے ہیں: عَنْ عَلِيّ، قَالَ: جَهّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةٍ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الإِذْخِر (مسند احمد، حدیث نمبر 643)۔ یعنی، حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اذخر گھاس کا بھر اؤ تھا۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمّا جَهّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فاطمة إلَى عَلِيّ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلٍ قَالَ عَطَاءٌ: مَا الْخَمِيلُ؟ قَالَ: قَطِيفَةٌ وَوِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ، أَوْ إِذْخِرٌ وَقِرْبَةٌ كَانَا يَفْتَرِشَانِ الْخَمِيلَ وَيَلْتَحِفَانِ بِنِصْفِهِ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1446)۔ یعنی، حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے نکاح کے بعد ان کو حضرت علی کے یہاں بھیجا تو ان کے ساتھ ایک کمیل تھا۔ عطا راوی نے پوچھا کہ کمیل کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا کہ چادر۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چمڑے کا ایک تکیہ دیا جس کا بھر اؤ کھجور کی چھال یا اذخر تھا اور ایک مشکیزہ۔ وہ دونوں اس چادر کا آدھا حصہ بچھاتے اور آدھا اوڑھ لیتے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader