Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 303

By Maulana Wahiduddin Khan

عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ لَمْ نَجِدْ فِي بَيْتِهِ إِلا رَمْلًا مَبْسُوطًا، وَوَسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، وَجِزَّةً وَكُوزًا (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 9781)۔ یعنی، حضرت اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ فاطمہ جب رخصت کر کے علی کے یہاں بھیجی گئیں تو ہم نے ان کے گھر میں اس کے سوا کچھ نہ پایا کہ وہاں ریت بچھی ہوئی تھی۔ اور ایک تکیہ تھا جس کا بھراؤ کھجور کی چھال تھا۔ اور ایک گھڑا تھا اور ایک پانی پینے کا پیالہ۔ چند ضروری سامان واضح ہو کہ اوپر کی حدیث میں تجھیز کا لفظ آج کل کا معروف جہیز دینے کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے۔ تجہیز کے معنی عربی زبان میں سادہ طور پر سامان تیار کرنے کے ہیں جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِم (12:70)۔ یعنی، جب انھوں نے ان کا سامان سفر درست کیا۔ مذکورہ حدیث میں تجھیز کا لفظ اسی سادہ مفہوم میں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ کے نکاح کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رخصت کیا تو چند ضروری چیزوں کا انتظام کر کے ان کے ساتھ کر دیا۔ یہ ضروری چیزیں وہی تھیں جن کا ذکر اوپر کی روایات میں موجود ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ شادی کے وقت لڑکی کو کافی سامان بطور جہیز دینا چاہیے۔ تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا نیا گھر بنا سکے۔ مگر یہ سراسر جاہلی تصور ہے۔ اسلام کے تصور نکاح سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر یہ کوئی اسلامی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا نمونہ پایا جاتا۔ کیوں کہ آپ دنیا میں اسی لیے آئے کہ دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں خدا پرستانہ زندگی کا سچا نمونہ قائم کر دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page