Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَايَ مِنَ الرَّحَى، أُطَحِنُ مَرَّةً، وَأُعْجِنُ مَرَّةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ يَرُزُقُكَ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِيكَ، وَسَأَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ: إِذَا أَلْزَمْتَ مَضْجَعَكَ، فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَالْحَمْدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ (مسند احمد، حدیث نمبر 26551) ۔ یعنی ، حضرت فاطمہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میرے دونوں ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔ کبھی چکی پیستی ہوں اور کبھی گوندھتی ہوں (اس لیے مجھے ایک خادم دے دیجئے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو رزق مقدر کیا ہوگا وہ تمہارے پاس آ جائے گا۔ اور میں تم کو اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں۔ تم جب سونے کے لیے جاؤ تو 33 بار اللہ کی تسبیح کرو۔ اور 33 بار اللہ کی تکبیر کرو۔ اور 34 بار اللہ کی حمد کرو۔ یہ کل سو (100) ہوئے۔ یہ عمل تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ جو لوگ اپنی لڑکیوں کو بڑے بڑے جہیز دینے کے لیے حضرت فاطمہ کے نکاح کی مثال پیش کرتے ہیں کیا ان میں کوئی ہے جو ایسا کر سکے کہ اس کی لڑکی اس کو اپنے ہاتھ کے چھالے دکھائے اور وہ اس کو ذکر اور تسبیح کی تلقین کرے ۔ لڑکی اس کو اپنی مصیبتیں بتائے اور باپ یہ کہے کہ بیٹی تم اللہ سے دعا کر لیا کرو۔ سنتِ رسول نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حضرت فاطمہ کے علاوہ تین اور صاحبزادیاں تھیں جو بڑی ہوئیں اور پھر بیاہی گئیں ۔ مگر مذکورہ ”جہیز“ بھی آپ نے صرف حضرت فاطمہ کو دیا۔ بقیہ صاحبزادیوں کو اس قسم کا کوئی جہیز نہیں۔ اگر جہیز فی الواقع آپ کی مستقل سنت ہوتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page