اصل عطیہ
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل عطیہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ بظاہر سادہ شادی کرتے ہیں۔ وہ نکاح کے مخصوص دن اپنی لڑکی کو زیادہ سامان نہیں دیتے۔ مگر بعد کو وہ سب مزید اضافے کے ساتھ اس کو دے دیتے ہیں جو ایک دنیا دار آدمی نکاح کے وقت نمائش کر کے اپنی لڑکی کو دیتا ہے۔ مگر یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہیں۔ حضرت فاطمہ رسول اللہ کی محبوب صاحبزادی تھیں۔ مگر آپ نے ان کو نہ نکاح کے دن گھر بنانے کے لیے سازو سامان کا ڈھیر دیا اور نہ آپ نے ایسا کیا کہ اولًا سادہ انداز میں نکاح کر دیں اور اس کے بعد خاموشی کے ساتھ ہر چیز صاحبزادی کے گھر پہنچادیں۔ حتیٰ کہ حضرت فاطمہ نے درخواست کی تب بھی آپ نے دینی نصیحت کے سوا ان کے لیے اور کچھ نہ کیا۔ حضرت فاطمہ کے بارے میں ایک روایت مختلف الفاظ میں حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ کو گھر کا سارا کام خود کرنا پڑتا تھا۔ وہ اس سے بہت پریشان تھیں۔ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے۔ حضرت علی نے اپنی اہلیہ حضرت فاطمہ سے کہا کہ تمہارے والد کے پاس گرفتار شدہ غلام آئے ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور اپنی خدمت کے لیے ایک غلام مانگ لو۔ حضرت فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ نے کہا کہ میری بیٹی تم کس ضرورت سے آئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو سلام کرنے کے لیے۔ حضرت فاطمہ شرم وحیاء کی وجہ سے آپ سے سوال نہ کرسکیں اور سلام کر کے واپس آگئیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے گھر پر آئے۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی اس کے الفاظ ایک روایت کے مطابق یہ تھے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader