مہر کا مسئلہ
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
مہر کا مسئلہ معاشرتی زندگی میں اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان ایک متوازن تقسیم قائم کی ہے۔ یہ تقسیم عمل کے اعتبار سے ہے۔ اسلام نے دونوں صنفوں کے درمیان ایک واضح تقسیم عمل کو ملحوظ رکھا ہے۔ اسلام کے مطابق، گھر کو سنبھالنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر عورت کے اوپر ہے اور مالیات کی فراہمی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے اوپر ۔ تقسیم کار کا یہ اصول جن نصوص سے نکلتا ہے ان میں سے ایک قرآن کی یہ آیت ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (4:34) ـ یعنی، مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ۔ اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال سے خرچ کیا۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرنے والی ہیں اللہ کی حفاظت سے۔ ہر گھر ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ اس ریاست کا ایک مسئلہ اس کا اندرونی نظام ہے۔ اور اس کا دوسرا مسئلہ اس کی مالیات (بالفاظ دیگر، خارجی اسباب حیات کی فراہمی) ہے۔ عورت اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے پہلے کام کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اور مرد اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے دوسرے کام کی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اسلام کی معاشرتی اور انتظامی تقسیم میں یہ کیا گیا ہے کہ گھر کے داخلی امور کی ذمہ داری بنیادی طور پر عورت پر ڈالی گئی ہے۔ اور گھر کے خارجی امور اور مالیات کی فراہمی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے اوپر ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader