خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
نکاح کے وقت ایک مرد مہر کے نام سے جو رقم اپنی بیوی کے حوالے کرتا ہے اس کا تعلق اسی خاص پہلو سے ہے۔ اسلام کے مطابق چوں کہ مرد اصولی طور پر عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اس لیے جب وہ ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ نکاح کے ساتھ اس ذمہ داری کو قبول کرتا ہے کہ وہ عورت کے تمام ضروری اخراجات کی کفالت کرے گا مہر اسی کی ایک علامت ہے۔ مرد اپنی بیوی کو مہر کے طور پر ایک علامتی رقم ادا کر کے کے عمل کی زبان میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی مالیاتی کفالت کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ مہر کی اصل حیثیت یہی ہے۔ مہرِ معجل مہر اصطلاحی طور پر اس رقم (یا کسی متعین چیز) کا نام ہے جو ایک مرد نکاح کے وقت اپنی بیوی کو ادا کرتا ہے۔ اس مہر کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے۔ مہر کی اس قسم کو مہر معجل کہتے ہیں۔ معجل کا لفظ عجلت سے بنا ہے۔ یعنی جلد یا بلا تاخیر ادا کی جانے والی مہر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانے میں عام رواج مہر معجل ہی کا تھا۔ وہ لوگ مختصر مہر باندھتے اور نکاح کے وقت ہی اس کو ادا کر دیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی ابن ابی طالب سے کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس کا ایک جز ء مہر کے بارے میں ہے۔ نکاح کی بات طے ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ ہے: وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّهَا بِهِ؟ فَقُلْتُ لَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ دِرْعُ سَلّحْتَكَهَا - فو الذِي نَفْسِي عَلِيِّ بِيَدِهِ إِنَّهَا لَحُطَمِيَّةٌ مَا ثَمَنُهَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader