پردہ کا حکم
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
چہرہ دونوں چھپانے والی چیزیں نہیں ہیں۔ البتہ ان کے سوا جسم کے جو حصے ہیں ، ان کا چھپانا ضروری ہے۔ ”آج کل کی عورتیں زیب وزینت میں جن بے ہودہ طریقوں تک پہنچ گئی ہیں ان کو دیکھ کر میرا دل پھٹ جاتا ہے۔ مگر اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ وہ چیز جس کو اللہ نے مباح رکھا ہو ، اس کو ہم حرام ٹھہرائیں۔ “ وہ لکھتے ہیں کہ قرآنی آیات، سنت محمدی اور آثار سلف کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے پورے بدن کو چھپائے اور اپنی زینت کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہونے دے، ماسوا وجہ اور کفین (چہرہ اور دونوں ہاتھوں) کے۔ ان کی تحقیق کے مطابق شرائط حجاب حسب ذیل ہیں : 1۔ پورے بدن کو چھپانا الاّ وہ جو مستثنیٰ کیا گیا ہو۔ 2۔ ایسا حجاب نہ اختیار کیا جائے جو بذات خود زینت بن جائے۔ 3۔ لباس باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے بدن جھلکے۔ 4۔ کشادہ لباس ہو، تنگ نہ ہو۔ 5۔ خوشبو میں بسا ہوا نہ ہو۔ 6۔ مرد کے مشابہ نہ ہو۔ 7۔ کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔ 8۔ شہرت کا لباس نہ ہو۔ حجاب کی پہلی شرط کا ماخذ، مصنف کے نزدیک سورہ نور کی آیت 31، اور سورہ احزاب کی آیت 59 ہے۔ یہ دونوں آیتیں حسب ذیل ہیں : وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader