Urdu book · خاتونِ اسلام

پردہ کا حکم

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، مُتَلَفِّعَاتِ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلَاةَ، لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 553) صفحہ 30۔ یعنی، حضرت عائشہ نے فرمایا: مسلم خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں شریک ہوتی تھیں، چادر میں لپٹی ہوتیں، پھر نماز کے بعد اپنے گھروں کو واپس ہوتی تھیں اور اس وقت اتنا اندھیرا ہوتا تھا کہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان عورتوں کا چہرہ کھلا ہوتا تھا۔ کیوں کہ اگر چہرہ کھلا ہوا نہ ہو تو ان کو پہچانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ” اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں “ یہ جملہ اس وقت با معنی ہے جب کہ ان کا چہرہ، جس سے آدمی حقیقتاً پہچانا جاتا ہے، کھلا ہوا ہو۔ اسی طرح عورتوں کے ہاتھ کے شامل ستر نہ ہونے کے سلسلے میں انھوں نے ابن عباس کی مشہور روایت نقل کی ہے جس میں آیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے سامنے تقریر فرمائی اور انھیں صدقے کی تلقین کی۔ اس کے بعد حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلایا یا تو عورتیں اپنے چھلّے اور انگوٹھی نکال نکال کر اس میں ڈالنے لگیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 977)۔ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد، صاحبِ کتاب، ابن حزم (المحلیٰ بالاثار، جلد 2، صفحہ 248) کا قول نقل کرتے ہیں: فَهَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى أَيْدِيَهُنَّ؛ فَصَحَّ أَنَّ الْيَدَ مِنَ الْمَرْأَةِ، وَالْوَجْهَ: لَيْسَا بِعَوْرَةٍ، وَمَا عَدَاهُمَا؛ فَفَرَضَ سِتْرَهُ (صفحہ 31)۔ یعنی، ابن عباس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں عورتوں کے ہاتھوں کو دیکھا۔ پس ثابت ہوا کہ عورتوں کا ہاتھ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page