پردہ کا حکم
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
پہچان ہو جایا کرے گی اور ایذا نہ دی جائے گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ سورۂ نور کی آیت کے سلسلے میں احادیث سے استدلال کرتے ہوئے انھوں نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں اَلْمَاظَهْرَ مِنْهَا سے وجہ اور کفین (چہرہ اور ہاتھوں) کا استثناء مراد ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت کے سلسلے میں مختلف احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: فَيُسْتَفَادُ مِمَّا ذَكَرْنَا أَنَّ سَتْرَ الْمَرْأَةِ لِوَجْهِهَا بِبُرْقَعٍ أَوْ نَحْوِهِ مِمَّا هُوَ مَعْرُوفٌ الْيَوْمَ عِنْدَ النِّسَاءِ الْمُحْصَنَاتِ أَمْرُ مَشْرُوعٌ مَحْمُودٌ وَإِنْ كَانَ لَا يَجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهَا بَلْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ (صفحه 3)۔ یعنی، جو شواہد ہم نے درج کیے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کا برقع یا اور کسی چیز سے اپنے چہرے کو چھپانا مشروع اور پسندیدہ ہے۔ اگرچہ وہ اس پر لازم نہیں، اس طریقہ پر عمل کرنا احسن ہے مگر جو عمل نہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ 2۔ حجاب کی دوسری شرط، مصنف کی تحقیق کے مطابق یہ ہے کہ وہ بذات خود زینت نہ ہو_ قرآن میں اس کو "تبرج" کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقْمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (33:33)۔ یعنی، اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے مطابق مت پھرو اور تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ کو یہ منظور ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader