پردہ کا حکم
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
اے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو ہر طرح پاک صاف کرے۔ مصنف کے نزدیک، اس حکم کا منشا یہ ہے کہ عورت اپنی زینت اور محاسن کو اس طرح ظاہر نہ کرے کہ اس سے دیکھنے والوں میں میلان اور شہوت پیدا ہو۔ وہ لکھتے ہیں: وَالْمَقْصُوْدُ مِنَ الْاَمْرِ بِالْجِلْبَابِ اِنَّمَا هُوَ سَتْرُ زِيْنَةِ الْمَرْأَةِ، فَلَا يُعْقَلُ حِيْنَئِذٍ أَنْ يَكُوْنَ الْجِلْبَابُ نَفْسُهُ زِيْنَةً (صفحہ 55) یعنی، جلباب لٹکانے کا حکم اس لیے ہے کہ عورت کی زینت کو چھپایا جائے۔ اس لیے ناقابل تصور ہے کہ جلباب خود بھی ایک زینت بن جائے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ تبرج سے بچنے کی اسلام میں اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کو شرک اور زنا اور سرقہ جیسی حرام چیزوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے متعلق حدیثیں جمع کر دی ہیں۔ 3- مصنف کی تقسیم کے مطابق حجاب کی تیسری شرط یہ ہے کہ کپڑا باریک نہ ہو: فَإِنَّ السَّتْرَ لَا يَتَحَقَّقُ بِهِ وَأَمَّا الشَّفَّافُ فَإِنَّهُ يَزِيْدُ الْمَرْأَةَ فِتْنَةً وَزِيْنَةً (صفحہ 56)۔ یعنی، کیوں کہ اس کی موجودگی میں پردہ نہیں ہوسکتا اور باریک کپڑا، جس سے بدن جھلکنے، عورت کے زینت اور فتنہ میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مختلف حدیثیں نقل کی ہیں۔ مثلاً: سَيَكُوْنُ فِيْ آخِرِ أُمَّتِيْ نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 1125)۔ یعنی، میری امت کے آخری دور میں ایسی عورتیں ہوں گی جو پہن کر بھی ننگی دکھائی دیں گی۔ 4۔ حجاب کی چوتھی شرط، مصنف کے نزدیک، یہ ہے کہ کپڑا ڈھیلا ڈھالا ہو۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنی تائید میں مختلف حدیثیں نقل کی ہیں۔ آخر میں انھوں نے حضرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader