خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 348
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کی آبادی میں مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) سے لیے گئے ہیں: FEMALE 52.93% 51.19 51.89 51.01 51.11 51.39 51.06 51.33 53.03 51.42 ایک سے زیادہ نکاح کے ہے، یہ اعداد و شمار ۱۹۷۰ء کی رپورٹ سے لئے گئے ہیں۔ COUNTRY MALE 1. Austria 47.07% 2. Burma 48.81 3. Germany 48.02 4. France 48.99 5. Italy 48.89 6. Poland 48.61 7. Spain 48.94 8. Switzerland 48.67 9. Soviet Union 46.59 10. United States 48.58 عورت کی رضامندی لئے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آبادی کے اندر عورتیں زیادہ ایک سے زیادہ نکاح کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آبادی کے اندر عورتیں زیادہ تعداد میں موجود ہوں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مطلوب ہے وہ خود بھی اپنی آزادانہ مرضی سے اس قسم کے نکاح کے لیے پوری طرح راضی ہو۔ اسلام میں عورت کی رضامندی مسلّمہ طور پر نکاح کے لیے شرط ہے۔ کسی عورت سے زبردستی نکاح کرنا جائز نہیں۔ اسلام کی نمائندہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جب کہ کسی مرد کو یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں لے آئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader