تعدد کی نابرابری
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں حادثاتی موتیں روز مرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ سڑک کے حادثے ، ہوائی حادثے، کارخانوں کے حادثے اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ جدید صنعتی دور میں یہ حادثات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب سیفٹی انجینئرنگ ( safety engineering) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آ گیا ہے۔ 1967 کے اعداد و شمار کے مطابق ، اس ایک سال میں پچاس ملکوں کے اندر مجموعی طور پر 175000 حادثاتی موتیں واقع ہوئیں۔ یہ سب زیادہ تر مرد تھے۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ، 137/16) صنعتی حادثات کی موتوں، سیفٹی انجینئرنگ کے باوجود، پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہوائی حادثات جتنے 1988 میں ہوئے ، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام صنعتی ملکوں میں مستقل طور پر اسلحہ سازی کے تجربات ہو رہے ہیں۔ ان میں برابر لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ ان ہلاک شدگان کی تعداد کبھی نہیں بتائی جاتی ، تاہم یہ یقینی ہے کہ ان میں تمام تر صرف مرد ہی ہیں جو ناگہانی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورت حال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو، اور مردوں کی تعداد نسبتاً کم ہو جائے۔ امریکا کی سوسائٹی نہایت ترقی یافتہ سوسائٹی سمجھی جاتی ہے، مگر وہاں بھی یہ فرق پوری طرح پایا جاتا ہے۔ 1987 کے اعداد وشمار کے مطابق ، امریکا کی آبادی میں مردوں کے مقابلے میں تقریباً 71 لاکھ (7.8 million) عورتیں زیادہ تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکا کا ہر مرد شادی شدہ ہو جائے تو اس کے بعد بھی امریکا میں تقریباً 71 لاکھ عورتیں ایسی باقی رہیں گی جن کے لیے ملک میں غیر شادی شدہ مرد موجود نہ ہوں گے جن سے وہ نکاح کر سکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader